اے آئی کا خوف یا مکمل ڈرامہ ؟

اے آئی کے پیچھے دنیا کے بڑے نیوز چینل لگے ہوئے ہیں کہ یہ انسانیت ختم کر دے گی، دنیا کو نیست و نابود کر دے گی وغیرہ وغیرہ، مگر کیا یہ حقیقت میں ہو بھی سکتا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی ٹیکنالوجی خود اس قابل بن جائے کہ وہ انسانوں کا خاتمہ کر سکے؟

جی ہاں، تو یہ ممکن ہے، بالکل ایسے جیسے بجلی انسانوں کو سہولت تو فراہم کرتی ہے مگر جان بھی لے سکتی ہے۔ موٹر کار میں سفر تو کر سکتے ہیں مگر ٹکر سے موت بھی ہو سکتی ہے۔ ہوائی جہاز کے کریش ہونے سے سینکڑوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ اور کچھ ٹیکنالوجیز تو ایسی ہیں جو صرف نقصان کا باعث بن رہی ہیں جیسے بندوق، پستول، بم، میزائل اور تہذیب یافتہ ممالک کے لیے فخر کا باعث بننے والا ایٹم بم جو چند منٹوں میں لاکھوں زندگیوں کو نگلنے کی طاقت رکھتا ہے، یہ تو بنے ہی صرف اس لیے کہ انسانوں کو مارا جا سکے۔

دنیا کی بڑی طاقتیں اے آئی کے پیچھے اس لیے پڑی ہیں کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ تیسری دنیا کے کسی ملک میں بیٹھا ایک عام آدمی وہ کام کرنے کے قابل ہو جو ان کی کمپنیاں کرتی ہیں، جس کی وجہ سے اِن کا ورلڈ آرڈر برقرار ہے۔ یہ اے آئی کو بدنام کریں گے، غریب ممالک کے لوگوں کو اِن سے دور رکھیں گے، خود اِن سے فائدہ اٹھائیں گے، ہمیشہ کی طرح اپنی جڑیں مضبوط کریں گے جبکہ ہماری کھوکھلی۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور یورپ کے پاس 5637 ایٹم بم پڑے ہیں جو موجودہ دنیا کو 5 سے 10 بار تباہ و برباد کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اگر اِن کو انسانیت کا اتنا ہی خیال ہے تو بے شک اے آئی کے خلاف ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مہم چلائیں، مگر ساتھ جو اِنھوں نے آفیشلی بڑے بڑے بم، بارود و میزائل اسٹور کر رکھے ہیں اُن کا کیا؟ ہر دہائی میں جو لاکھوں لوگ ریاستی حکموں پر قانون کے نام پر مارے جاتے ہیں اُن کا کیا؟ جو جنگوں میں بے گھر، معذور اور اپنوں کو کھوتے ہیں، اُن کا کیا؟