ہم ہمیشہ سے ایک بہتر زندگی کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں۔ ایک اچھا گھر، اچھی نوکری، زیادہ پیسہ اور کچھ بہتر سہولتیں۔ لیکن کہیں نہ کہیں یہ دوڑ ہماری زندگی کا معمول بن گئی۔ ہم نے زندگی جینے کے بجائے ایک ہی معمول کو دہرانا شروع کر دیا۔
صبح اٹھو، کام پر جاؤ، گھر واپس آؤ، سو جاؤ اور اگلے دن پھر وہی کرو۔ پیر آتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے جمعہ بن جاتا ہے۔ پھر ایک سال گزر جاتا ہے، پھر کئی سال۔ تنخواہ بڑھتی ہے، عہدہ بدلتا ہے، گھر بڑا ہوتا ہے، لیکن زندگی کے دن ویسے ہی گزرتے رہتے ہیں۔
یہ سلسلہ ریٹائرمنٹ تک جاری رہتا ہے؛ اس ریٹائرمنٹ تک جس کا انسان اپنی زندگی کے کئی عشرے انتظار کرتا ہے۔
لیکن ایک سوال ہے جس پر ہم زیادہ دیر سوچنا نہیں چاہتے: جب وہ آزادی آخرکار ملے گی جس کا ہم برسوں انتظار کرتے رہے، تو کیا وہ واقعی آزادی محسوس ہوگی، یا تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی؟
ہم اس شخص کو کامیاب کہتے ہیں جس نے زندگی میں ایک اچھا گھر بنایا، اچھی نوکری حاصل کی، بچوں کا مستقبل محفوظ کیا اور ریٹائرمنٹ کے لیے پیسے جمع کیے۔ ہم کہتے ہیں، ماشاءاللہ، اس نے زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا۔
لیکن ہم اس سے شاید ہی کبھی یہ پوچھتے ہیں کہ اگر اسے دوبارہ زندگی شروع کرنے کا موقع ملے تو کیا وہ یہی راستہ ایک بار پھر اختیار کرے گا؟
ہم نے اچھی زندگی کا ایک فارمولا بنا رکھا ہے: خوب پڑھو، ڈگری حاصل کرو، نوکری کرو، پیسے کماؤ، گھر بناؤ، شادی کرو، بچوں کی پرورش کرو اور پھر ریٹائرمنٹ کا انتظار کرو۔
اس راستے سے ہٹنے والا ہمیں غیر سنجیدہ لگتا ہے۔ کوئی بڑا خطرہ مول لے تو اسے غیر ذمہ دار کہا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ وہ کم پیسہ کمانا چاہتا ہے، لیکن اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا چاہتا ہے، تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ زیادہ آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتا۔
ہم نے زندگی کو ایک سیدھی لکیر بنا دیا ہے: اسکول، یونیورسٹی، نوکری، ترقی، ریٹائرمنٹ اور پھر اختتام۔
کسی منزل تک پہنچنے کے لیے سیدھا راستہ اچھا ہوسکتا ہے، لیکن زندگی گزارنے کے لیے شاید نہیں۔ کیونکہ جب انسان کی پوری زندگی صرف اگلے مرحلے تک پہنچنے میں گزر جائے تو ایک وقت آتا ہے جب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ منزلیں تو حاصل کرتا رہا، مگر زندگی پیچھے رہ گئی۔
اب جنریشن زیڈ اس روایتی سوچ پر سوال اٹھا رہی ہے۔
یہ نسل پوچھ رہی ہے کہ میری پوری زندگی صرف نوکری کے گرد کیوں گھومے؟ اگر کام لیپ ٹاپ کے ذریعے گھر بیٹھ کر، کسی کیفے میں یا دنیا کے کسی دوسرے ملک سے کیا جاسکتا ہے تو پھر دفتر ہی کیوں ضروری ہے؟ اگر پیسہ کمانے کے کئی نئے طریقے موجود ہیں تو کامیاب کیریئر کا صرف ایک ہی راستہ کیوں ہو؟ اور اگر زندگی صرف ایک بار ملتی ہے تو اس کا بیشتر حصہ ریٹائرمنٹ کے انتظار میں کیوں گزارا جائے؟
آج سوشل میڈیا پر کوئی دبئی سے کام کرتا دکھائی دیتا ہے، کوئی بالی میں بیٹھ کر کاروبار چلا رہا ہے اور کوئی دنیا گھومتے ہوئے پیسے کما رہا ہے۔ یہ سب دیکھ کر اپنی روزمرہ زندگی پر سوال اٹھانا فطری ہے۔ کیا واقعی زندگی گزارنے کا صرف وہی طریقہ ہے جو ہم نے اپنے والدین سے سیکھا؟
لیکن یہاں ایک حقیقت بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جنریشن زیڈ نے اس معمول سے مکمل آزادی حاصل نہیں کی، بلکہ کئی صورتوں میں صرف اس کی شکل بدل دی ہے۔
پہلے دفتر کی گھڑی انسان کے دن کا فیصلہ کرتی تھی، اب موبائل کی نوٹی فکیشن کرتی ہے۔ پہلے بوریت میں لوگ ٹیلی ویژن دیکھتے تھے، اب فون پر ایپ کھول لیتے ہیں۔ کوئی سوچتا ہے کہ آج جلدی سوؤں گا، پھر ’’صرف پانچ منٹ‘‘ کے لیے موبائل اٹھاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے رات کا ایک بج جاتا ہے۔ ایک ویڈیو سے شروع ہونے والا سلسلہ درجنوں ویڈیوز تک پہنچ جاتا ہے۔
چکر ختم نہیں ہوا، صرف دفتر سے نکل کر موبائل کی اسکرین تک آگیا ہے۔
اس بحث کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، خاص طور پر ہمارے جیسے معاشرے میں۔ ہر شخص کے لیے روایتی نوکری چھوڑ کر اپنی مرضی کی زندگی گزارنا ممکن نہیں ہوتا۔
بہت سے لوگوں کے لیے یہ راستہ محض ایک روایت نہیں بلکہ مجبوری ہے۔ والدین کی ذمہ داریاں، بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات اور علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت انسان کو ایک مستقل آمدنی سے وابستہ رکھتی ہے۔ جب کوئی دوسرا مالی سہارا موجود نہ ہو تو نوکری چھوڑ کر خطرہ مول لینا آسان فیصلہ نہیں ہوتا۔
اس لیے روایتی زندگی کو صرف ایک فرسودہ سوچ قرار دینا درست نہیں۔ یہ نظام بہت سے لوگوں کو مالی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مسئلہ نوکری کرنے یا ذمہ داریاں پوری کرنے میں نہیں، بلکہ اس سوچ میں ہے کہ زندگی کا واحد مقصد یہی ہونا چاہیے۔
اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ جب جنریشن زیڈ پر عملی زندگی کی ذمہ داریاں آئیں گی، خاندان ہوگا، اخراجات ہوں گے اور والدین کی دیکھ بھال کرنا ہوگی، تو کیا وہ اس نظم و ضبط کو برقرار رکھ سکے گی جس سے آج وہ اکثر آزادی کے نام پر دور بھاگتی دکھائی دیتی ہے؟
کیا وہ نسل جو گھنٹوں موبائل پر وقت گزار سکتی ہے، وقت پر سو کر اگلی صبح اٹھ سکے گی؟ کیا وہ ایسا کام بھی مستقل مزاجی سے کرسکے گی جو اسے پسند نہ ہو، لیکن زندگی کی ضروریات کے لیے کرنا لازم ہو؟
ممکن ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہی ذمہ داریاں جنریشن زیڈ کو اسی روایتی نظام کی طرف واپس لے جائیں جس پر وہ آج سوال اٹھا رہی ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ نسل ان دونوں راستوں کے درمیان کوئی بہتر راستہ تلاش کرلے۔
ایسا راستہ جہاں کام بھی ہو، ذمہ داریاں بھی پوری ہوں، نظم و ضبط بھی ہو، لیکن زندگی صرف کام کا نام نہ بن جائے۔
شاید مستقبل کا کامیاب انسان وہ نہ ہو جو دفتر میں سب سے زیادہ گھنٹے گزارے، بلکہ وہ ہو جو اپنا کام بھی کرے، اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرے اور اس سب کے ساتھ اپنی زندگی کے لیے بھی وقت نکالے۔
ایسی زندگی جہاں ریٹائرمنٹ آزادی کا پہلا دن نہ ہو اور پورا ہفتہ صرف چھٹی کے انتظار میں نہ گزرے۔
میرے خیال میں یہ سوال صرف جنریشن زیڈ کا نہیں، ہم سب کا ہے۔
کیا ہم ایک بہترین زندگی بنانے کے لیے بھاگ رہے ہیں، یا واقعی زندگی گزارنے کے لیے؟
اگر کامیابی کا مطلب صرف ایک ایسا راستہ ہے جو تعلیم سے شروع ہو، نوکری سے گزرے اور ریٹائرمنٹ پر ختم ہوجائے، تو شاید سب سے پہلے جنریشن زیڈ کو نہیں، بلکہ کامیابی کی ہماری تعریف کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
ممکن ہے ہم ایک دن وہ بہترین زندگی بنا لیں جس کا ہم برسوں سے خواب دیکھتے آئے ہیں۔
بس امید ہے کہ جب وہ زندگی ہمارے پاس ہو تو ہمیں یہ بھی یاد رہے کہ اس میں جینا بھی تھا۔